نئی دہلی 13 ڈسمبر(ایس او نیوز) جسٹس محترمہ بیلا ایم ترویدی نے منگل کو سپریم کورٹ میں 11 قصورواروں کی جلد رہائی کو چیلنج کرنے والی بلقیس بانو کی درخواست کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بلقیس بانو جس کے ساتھ 2002 کے گجرات فسادات کے دوران اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی، نے ریاستی حکومت کی طرف سے اس کیس میں قصورواروں کی سزا میں معافی کو چیلنج کرتے ہوئے ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی قبل از وقت رہائی نے "معاشرے کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا ہے"۔
جیسے ہی جسٹس ترویدی اور جسٹس اجے رستوگی پر مشتمل بنچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی، جسٹس رستوگی نے کہا کہ ان کی ساتھی جج محترمہ جسٹس بیلا ترویدی اس کیس کی سماعت کرنا پسند نہیں کریں گی۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جسٹس اجے رستوگی نے اس معاملے کو ایک ایسی بینچ کے سامنے پیش کرنے کی پیش کش کی جس میں اِس بینچ میں ہم دونوں میں سے ایک رکن موجود نہ ہو۔تاہم، بنچ نے محترمہ جسٹس ترویدی کے پیچھے ہٹنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔
بتاتے چلیں کہ تمام 11 مجرموں کو اس سال 15 اگست کو رہا کیا گیا تھا۔ معافی کے خلاف اپنی درخواست میں، بلقیس بانو نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کی طرف سے پیش کردہ قانون کی ضرورت کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے ایک میکینیکل آرڈر پاس کیا۔